نئی دہلی:29/ جنوری (ایس اونیوز /آئی این ایس انڈیا)دہلی کے کڑکرڈوما کورٹ نے اسدالدین اوویسی کی جانب سے دی گئی نفرت آمیز تقریر پر دہلی پولیس کی کلوزر رپورٹ مسترد کر دی ہے۔عدالت نے دہلی پولیس کو اس کیس کو دوبارہ جانچنے کا حکم دیا۔وہیں عدالت نے دہلی پولیس کو اس معاملے میں گواہوں اور دستاویزات جمع کرنے کے بعد تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کی رپورٹ عدالت کو سونپیں۔یہ معاملہ سال 2014کا ہے۔اس وقت نریندر مودی کے لوک سبھا انتخابات جیتنے کے بعداے آئی ایم کے صدر اور ایم پی ایس اسد الدین اویس نے ہندو کمیونٹی کے بارے میں کچھ ناقابل ذکر بیانات دیاتھا۔اسدالدین اویسی نے اپنی عوامی تقریر میں کہا تھا کہ 2014میں مودی حکومت اور ہندو رہنماؤں کے بارے میں قابل اعتراض باتیں کہی تھی،اس کے علاوہ اس تقریرکوYouTubeپر بھی اپ لوڈ کیا گیا تھا۔اس معاملے پر اجے گوتم نے دہلی میں ایک ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ایف آئی آر عدالت کے حکم پر رجسٹرڈ کیا گیا تھا اور دہلی پولیس نے اسی ایف آر پرکلوزررپورٹ درج کی۔دہلی پولیس نے اپنے کلوزر رپورٹ میں کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کا اصل ذریعہ نہیں ملا ہے، اور اس وجہ سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ویڈیو اصلی یا جعلی ہے۔پولیس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ وہ معاملے کو بند کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اس معاملے میں اب تک تحقیقات میں کچھ نہیں ملا ہے۔تاہم درخواست دہندگان نے کہا کہ پولیس اس معاملے میں جان بوجھ کر سست ہو رہی ہے،اب تک اس معاملے میں تحقیقات کی کمی ہے، اس کے ساتھ ساتھ اس ایف آر پر اسد الدین اویسی سے پوچھ گچھ کے لئے پولیس نے بلایابھی نہیں ہے۔پولیس یہ کہہ رہے ہیں کہ ویڈیو حقیقی یا جعلی ہے، اس کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔